ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تین طلاق سے شہرت یافتہ شاعرہ بانوکی بی جے پی میں شمولیت مسلم ووٹروں کو مائل کرنے کی کوشش: کانگریس

تین طلاق سے شہرت یافتہ شاعرہ بانوکی بی جے پی میں شمولیت مسلم ووٹروں کو مائل کرنے کی کوشش: کانگریس

Mon, 09 Jul 2018 10:42:44    S.O. News Service

نئی دہلی ،9جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)تین طلاق کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی مسلم خاتون شاعرہ بانو جلد ہی بی جے پی میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔ جمعہ یعنی 6 جولائی کو بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ بی جے پی ان کو ایک تقریب کے دوران رکنیت دلائے گی۔

شاعرہ بانو کو پارٹی میں شامل کر کے بی جے پی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مسلم مخالف نہیں ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اتراکھنڈ بی جے پی کے صدر اجے بھٹ نے کہا ’’یہ بڑا پیغام ان لوگوں کو دیا گیا ہے جو سمجھتے ہیں کہ بی جے پی مسلم مخالف پارٹی ہے۔ شاعرہ بانو کا بی جے پی میں آنا ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو ہمیں فرقہ پرست قرار دیتے ہیں۔ ہم مذہب کی بنیاد پر اپنے کارکنان میں تفریق نہیں کرتے۔‘‘

اجے بھٹ نے کہا کہ اس مہینے کے آخر میں دہلی میں ایک تقریب منعقد ہوگی اور اسی دوران شاعرہ بانو کو پارٹی میں شامل کیا جائے گا۔ وہیں کانگریس نے اس قدم کو بی جے پی کا سیاسی قدم قرار دیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ 2019 میں مسلم خواتین ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے بی جے پی یہ قدم اٹھا رہی ہے۔

واضح رہے کہ شاعرہ بانو اتراکھانڈ میں اودھم سنگھ نگر ضلع کے کاشی پور کی رہائشی ہیں۔ وہ اس وقت سرخیوں میں آئیں جب 2016 میں انہوں نے طلاق ثلاثہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اگست 2017 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ایک ہی نشست میں طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

شاعرہ بانو کا کہنا ہے کہ وہ مسلم سماج کی حالت سدھارنے کے وزیر اعظم مودی کے عزم سے کافی متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا ’’پارٹی میں شامل ہونے کے بعد میں ملک بھر میں یکساں سول کوڈ نافذ کروانے کے لئے جوش و خروش کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں کیوں کہ آئین نے جو حقوق دئیے ہیں وہ سبھی خواتین کے ساتھ مسلم خواتین کو بھی ملیں۔


Share: